اعجاز قرآن (۲)
logo512-articles

Abstract

By اعجاز قرآن (۲)

اعجاز قرآن (۱ ) کا بقیہ

۳۔ قرآن كريم كى اعجازى حيثيت پر تيسرا اعتراض يہ ہے كہ اس كے بيانات ميں تضاد اور اختلاف بكثرت پايا جاتاہے اور الہامى كتاب كو ايسا نہيں ہونا چاہئے تضاد كى چند مثاليں يہ ہيں:

الف) جناب ذكريا كے واقعہ ميں ايك مقام پر ارشاد ہوا ہے كہ "آيتك الّا تكل الناس ثلاثة ايام الا رمزاً "۳۔۴۱، اور دوسرے مقام پر بيان كيا گيا ہے "آيتك الا تكلم الناس ثلاث ليال سويا”۔۱۹۔۱۰

يعني ايك مقام پر علامت تين دين كے سكوت كو قرار ديا گيا ہے اور دوسرے مقام پر تين رات كے سكوت ہو۔ جب كہ دونوں صورتوں ميں مقدار سكوت ميں قطعى طور پر فرق ہو جائے گا۔

ظاہر ہے كہ اس اعتراض كى تمام تر بنياد يہ ہے كہ عربى زبان ميں يوم كا تصور ليل كے تصور سے بالكل مختلف ہے اور قرآن مجيد نے دونوں كو ايك مركز پر جمع كر دياہے، حالانكہ اس كے خلاف شواہد خود قرآن مجيد ميں موجود ہيں جہاں يوم ليل و نہار كے مجموعہ كو بھى كہا گيا ہے اور ليل كے مقابلہ ميں تنہا نہار كو بھي۔ اور اسى طرح ليل كا استعمال مجموعہ كے لےے بھى ہوا ہے اور تنہا شب كے لےے بھى ۔

اہل نظر ان مقامات كا مطالعہ كرنے كے بعد خود فيصلہ كرسكتے ہيں كہ قرآن حكيم كے بيانات ميں كوئى تضاد نہيں ہے بلكہ سارا تضاد انسانى فكر و فہم كا ہے جس نے بيان پر نظر كرنے كے بعد حالات كو قطعى طور پر نظر انداز كر ديا ہے۔

بعينہٖ اس قسم كا اعتراض خلقت ارض وسماء كے بارے ميں ہے جسے ايك مقام پر چھ دن كا نتيجہ عمل قرار ديا گيا ہے اور دوسرے مقام پر اس سے كم۔ حالانكہ وہاں بھى كوئى تضاد نہيں ہے فرق صرف يہ ہے كہ ايك مقام پر اجمالى طور پر چھ دن كا تذكرہ ہوا ہے، اور دوسرى جگہ پر اس كى تفصيل بيان كرتے ہوئے بعض اہم اجزاء كا تذكرہ كيا گيا ہے اور دوسرے غير اہم اجزاء كو ترك كر ديا گيا ہے۔

ب) مسئلہ جبر و اختيار كے بارے ميں قرآن مجيد كا موقف واضح نہيں ہے۔ كسى مقام پر افعال عباد كو بندوں كى طرف سے منسوب كيا گيا ہے اور "اما شاكراً و اما كفوراً” ۔ "فمن شاء فليومن ومن شاء فليكفر” جيسے اعلانات كئے گئے ہيں، اور كسى مقام پر ان تمام باتوں كو رب العٰلمين كى طرف منسوب كر ديا گيا ہے اور صاف صاف كہہ ديا گيا ہے "و ما تشاوٴن الا ان يشاء اللہ” ۔ ۔۔ كل من عند ربنا ۔۔۔۔ ختم اللہ على قلوبہم۔۔۔ ۔وغيرہ۔

اس اعتراض كى مكمل تجزيہ كے لئے بڑى تفصيل دركار ہے۔ اجمالى طور صرف يہ كہا جاسكتاہے كہ بندوں كے اعمال و افعال ايك درميانى كيفيت كے حامل ہيں ۔ ان ميں حيات و استعداد، صلاحيت وقوت رب العالمين كا عطيہ ہوتى ہے۔ وہ زندگى كو موت سے بدل دے تو كوئى عمل خير نہيں ہو سكتا۔ وہ طاقتوں كو سلب كركے مشلول و مفلوج بنا دے تو كسى معصيت كا امكان نہيں ہے۔ ليكن وہ ايسا نہيں كرتا بلكہ اس نے خير و صلاح كو سامنے ركھتے ہوئے حيات و استعداد دے كر قوت و طاقت كوبرقرار ركھا ہے۔ اور اسكے بعد انسان كي قوت ارادى كو آگے بڑھا كر اعلان كر ديا ہے كہ طاقت دے دينا ہمارا كام تھا۔ صرف كرنا تمہارا كام ہے۔ استعداد و قابليت ہمارى ہے اور اختيار وانتخاب تمہارا ہوگا۔ ايسے حالات ميں ان افعال كو عبد و معبود دونوں كى طرف منسوب كيا جاسكتا ہے ليكن مالك نے طاقتوں كا ذخيرہ سپرد كرتے وقت يہ بتايا تھا كہ ہمارا مقصد خير و بركت كى ايجاد۔ اور صلاح و نيكى كى تخليق ہے۔ اس كے خلاف استعمال ہماري مرضى كے قطعى خلاف ہوگا۔ اس لےے اس نے اپنے منشاٴ كے مطابق استعمالات كو اپنى طرف منسوب كيا ہے اور اپنى مرضي كے خلاف استعمالات كى تمام تر ذمہ دارى بندوں كے سر ركھي ہے۔

واضح لفظوں ميں يہ كہا جا سكتا ہے كہ اعمال كى بنيادي حيثيت ميں عبد و معبود دونوں كا حصہ ہے، ايك كي استعداد ہے تو دوسرے كا اختيار۔ليكن اعمال كي اخلاقى و سماجى يا مذہبى حيثےت ميں دونوں كے راستے الگ الگ ہو جاتے ہيں۔خير و صلاح كے راستے پر خدا بھي بندے سے اتفاق ركھتا ہے اس لےے اسے دونوں كى طرف منسوب كيا جا سكتا ہے اور شر وفساد كى راہ ميں دونوں كا موقف الگ الگ ہو جاتا ہے اس لےے اسے صرف بندے كى طرف منسوب كيا جائے گا۔معبود كى طرف نہيں ۔

قرآن حكيم كى آيات ميں يہ بات نماےاں طور پر دےكھى جاسكتى ہے اور اس تجزيہ سے صاف اندازہ كيا جاسكتا ہے كہ دونوں كى طرف اعمال كى نسبت ميںكس كمال احتےاط سے كام ليا گيا ہے اور عبد و معبود كے ذاتى كمال و نقص كو كس طرح پيش نظر ركھا گيا ہے۔

ج) قرآن مجيد ميںمشرق و مغرب كا تصور واضح نہيں ہے ايك مقام پر يہ لفظ مفرداستعمال ہوا ہے جس جسے معلوم ہوتا ہے كہ مشرق و مغرب ايك ايك ہے۔دوسرے مقام پر رب المشرقےن والمغربےن ۔كہا گيا ہے جسكا مطلب يہ ہے كہ مغرب و مشرق ايك ايك كے بجائے دو دو ہي۔تيسرے مقام

پر "مشارق الارض و مغاربھا” كا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے كئي كئى مشرق و مغرب كا اندازہ ہوتا ہے۔اور يہى كلام كا تضاد كہا جا تا ہے۔

بظاہر يہ بات لگتى ہوئى نظر آتى ہے ليكن اس كے حقےقى تجزيہ كے لےے دو باتوں پر نظر ركھنا ضروري ہے۔پہلى بات يہ ہے كہ قرآنى عقےدہ كى بنا پر يہ كائنات كسى ايك كرہ يا آسمان كا نام نہيں ہے بلكہ اس كائنات ميں بے شمار زمين و آسمان، لاتعداد كروات وافلاك اور انگنت نظامہائے شمسى پاےے جاتے ہيں اور كھلي ہوئى بات ہے كہ نظام ہائے شمس كى جتنى تعداد بڑھتى جائے گى مشرق ومغرب كى تعدادميں اضافہ ہوتا جائے گا۔

اس كے علاوہ خود زمين كا مشرق و مغرب بھى كوئى معين و محدود نقطہ نہيں ہے بلكہ حالات و فصول كے اعتبار سے اس ميں تغير ہوتا رہتا ہے اور اس اعتبار سے اسے واحد، تثنيہ، جمع ہر لفظ سے تعبير كر سكتے ہيں اور اس ميں كوئى فنى كمزورى نہيں ہے ۔

دوسري بات يہ ہے كہ قرآن حكيم كوئى جغرافيہ كي كتاب نہيں ہے كہ اس ميں ہر جگہ ايك ہى بات ايك ہى ٹكنيكل انداز سے بيان كى جائے بلكہ اس كا مقصد تربيت انسانيت اور پرورش كائنات ہے اس لےے اس كا فرض ہے كہ كائنات كي پہنائيوں ميں چھپے ہوئے حقائق كو حسب موقع و محل منتخب كرے اور دنيائے عقل وہوش كے سامنے پيش كرے۔ مناسب ہو تو مفرد تذكرہ كيا جائے۔ مقتضائے حال بدل جائے تو تثنيہ كا صيغہ استعمال كيا جائے اور بات كثرت ہى سے بنتى ہے تو ذہنوں كو تمام مشارق و مغارب كى طرف متوجہ كر ديا جائے۔

قرآن كريم كے بيانات ميں تضاد و تناقض ثابت كرنے كے لئے اس طرح كے بے شمار بيانات منتشر طور پر موجود ہيں اور عيسائي مبلغين نے اس سلسلہ ميں بے حد سعى كى ہے كہ كتاب حكيم ميں تضاد كى بحث اٹھا كر دنيا كى نگاہيں انجيل كے مصنوعى خرافات كى طرف سے ہٹا دى جائے۔ حالانكہ ايسا كچھ نہ ہو سكا اور انجيل كے جعلى بيانات اہل نظر كى نگاہ ميں رسوا ہو كر رہ گئے۔

حيرت تو ان علماء اسلام پر جنہوں نے تضاد كا تجزيہ كرنے كے بجائے نہايت آسانى كے ساتھ ہر مقام پر نسخ كاعقيدہ اختيار كر ليا ہے۔ نسخ ايك حقيقت بھى ہے اور ضرورت بھي۔ ليكن ہر ضرورت كا محل و موقع ہوتا ہے۔ يہ كوئي ضرورى نہيں ہے كہ جہاں كسى اعتراض كا جواب سمجھ ميں نہ آئے وہيں يہ كہہ ديا جائے كہ يہ آيت دوسرى آيت سے منسوخ ہو گئى ہے۔

مسئلہ نسخ كا مكمل تجزيہ بعد ميں كيا جائے گا اور وہاں علماء اسلام كى اس كوتاہى دامن كو واضح كرتے ہوئے بتايا جائےگا كہ نسخ ايك قانونى ضرورت ہے اسے كوتاہى نظر كى سپر كا درجہ نہيں ديا جاسكتا۔

امام حسن عسكري (ع) نے اس عقدہ كو نہايت ہى حسن وخوبصورتى كے ساتھ حل فرمايا ہے۔ آپ كو اطلاع دى گئى كہ ايك فلسفى نے قرآن مجيد كے بيانات ميں مختلف مقامات پر اختلاف ثابت كركے تضاد قرآن پر ايك كتاب تاليف كر دى ہے اور مسلمانوں كے عقائد خطرے ميں پڑ گئے ہيں۔ تو آپ نے ايك شخص كو معمور كيا كہ وہ فلسفى سے صرف اتنا دريافت كرے كہ تونے جس تضاد كو ثابت كيا ہے اس كا تعلق قرآن مجيد كے ان معانى سے ہے جو تيرے ذہن ميں آئے ہيں يا ان معانى سے ہے جو ان الفاظ سے مالك قرآن كى مراد ہے۔ اگر تضاد معانى ميں ہے جو تيرے ذہن كى پيداوار ہيں تو اس كى كوئى ذمہ دارى قرآن حكيم پر نہيں ہے اور اگر اس تضاد كا تعلق ان معانى سے ہے جو رب العالمين مراد لئے ہيں تو يہ پہلا اور بنيادى سوال ہے كہ تجھے ان معانى كى اطلاع كہا ں سے ہو گئى؟۔ اور جب اس اطلاع كا كوئى مدرك و ماخذ نہيں ہے تو تجھے تضاد ثابت كرنے كا كوئى حق نہيںہے۔

قرآن مجيد تو واضح لفظوں ميں اعلان كر رہا ہے:

لو كان من عند غير اللہ لوجدوا فيہ اختلافاً كثيراً۔

اگر يہ قرآن غير خد اكى طرف سے نازل ہوتاتو اس ميں بے حد تضاد و اختلاف پايا جاتا۔

يعني تضاد كا نہ ہونا ہى دليل ہے كہ يہ الہامى اور خدائي كتاب ہے اور اس كى تنزيل و ترتيب ميں كسى بندے كا دخل نہيں ہے۔

اس روايت ميں اس بات كى طرف بھى اشارہ كيا گيا ہے كہ حقائق قرآن تك پہونچنا ہر ماہر لسانيات كے بس كا كام نہيں ہے۔ فلسفى لغت و ادب كے

زور سے الفاظ كے معانى كا اندازہ كر سكتاہے ليكن حقائق تك نہيں پہونچ سكتا اور اختلاف و اتحاد بيان كا تعلق حقائق اور مرادات سے ہوتا ہے نہ كہ ظاہرى معانى و مفاہيم سے۔

قرآن حكيم كو ظاہرى الفاظ كے معانى تك محدود كر ديا جائے اور اس كے معانى كو واقعى حقائق و مرادات سے الگ كر ديا جائے تو ايسے اعتراضات كا دفع كرنا بے حد مشكل ہو جائے گا ضرورت ہے كہ قرآن حكيم كے ان واقعى مقاصد پر ايمان ركھا جائے اور انكي عظمتوں كا اقرار كيا جائے۔ اسى كا نام تاويل قرآن ہے اور يہى مرجع تعليمات و احكام ہے۔ اور يہي تاويل و مقصديت اشارہ كرتى ہے كہ قرآن حكيم كا حقيقى علم امت كے پاس نہيں ہے بلكہ اس كا واقعي ذخيرہ ذريت پيغمبر كے سينے ميں محفوظ كيا گيا ہے جس كى طرف حضور سرور كائنات نے وقت آخر اشارہ كر ديا تھا كہ :

"ميں تم ميں دو گراں قدر چيزيں چھوڑے جاتا ہوں، ايك كتاب خدا اور ايك ميرى عترت اور ميرے اہل بيت۔ جب تك ان سے متمسك رہوگے گمراہ نہيں ہو سكتے۔ اور حقائق كتاب تم تك پہونچتے رہيں گے۔”!

نتیجہ

اس مقالہ میں قرآن کریم کے اعجازی پہلو کو پیش کیا گیا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کریم پیغمبر اکرم (ص) کا بے مثال معجزہ ہے جسکی نظیر نہیں ملتی ۔ اس قرآن کو اگر دیکھا جائے تو اسکے اعجازی پہلو کا کوئی جواب نہیں، اسکی سب سے بڑی دلیل اس کے اندر نہ پایا جانے والا اختلاف ہے ، قرآن نے خود اس طرف اشارہ کیا ہے ارشاد ہوتا ہے:

لو كان من عند غير اللہ لوجدوا فيہ اختلافاً كثيراً۔

اگر يہ قرآن غير خد اكى طرف سے نازل ہوتاتو اس ميں بے حد تضاد و اختلاف پايا جاتا۔

يعني تضاد كا نہ ہونا ہى دليل ہے كہ يہ الہامى اور خدائي كتاب ہے اور اس كى تنزيل و ترتيب ميں كسى بندے كا دخل نہيں ہے۔

اسکے اوپر اعتراضات بھی ہوئے ہیں مگر ان سب کا جواب با آسانی دیا جا سکتا ہے ہم نے بھی اس مقالہ میں بعض اعتراضات اور انکے جوابات کہ پیش کیا ہے امید ہے کہ مفید واقع ضرور ہونگے۔