امام عصر كی معرفت قرآن مجید كی روشنی میں
logo512-articles

Abstract

By امام عصر كی معرفت قرآن مجید كی روشنی میں

اصول دین و مذہب میں عقیدہ امامت ہر شخص كے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح توحید، عدل، نبوت اور قیامت یعنی اگر كوئی شخص اللہ كی وحدانیت و عدالت كا قائل ہے تو اس كے لئے عقیدہ امامت پر ایمان ركھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے ـ علم كلام میں اس ضرورت كی توجیہ ” نظریہ لطف ” سے كی گئی ہے ـ

اس لئے اگرہم ذات باری تعالی، كو عادل تسلیم كرتے ہیں تو اس كا لازمی و منطقی نتیجہ یہ ہوگا كہ اس كی جانب سے ہر زمانے میں كسی نہ كسی عہدہ دار ہدایت وراہنمائی كا وجود بھی ضروری ماننا پڑے گا ـ اگر چہ وہ ظاہر نہ ہو اور پردہ غیب میں رہ كر ہی ہدایت كے كام كو آگے بڑھارہا ہو ـ اس لئے كہ خود حضرت باری تعالی كا ارشاد و اعلان ہے كہ ہم نے كوئی زمانہ ایسا نہیں چھوڑا یا كوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں ہادی و رہبر نہ بھیجے ہوں ـ

قرآن اورامام عصر كی معرفت

اس بارے میں قرآن حكیم كی یہ آیہ كریمہ بہت محكم ہےـ "و لقد بعثنا فی كل امة رسولاً ” (۱) اور یقیناً ہم نے ہر امت كے لئے رسول بھیجے اسی طرح ایك اور مشہور آیت ہے جو اسی مضمون سے متعلق ہے كہ : ” وماكنا معذبین نبعث رسولاً ” (۲) اورہم تب تك عذاب نہیں كریں گے جب تك اپنا رسول نہ بھیج دیں ـ چنانچہ ہم كسی بھی زمانے میں حجت خدا اور وجود رہبر سے انكار نہیں كرسكتے ـ ورنہ جناب باری تعالی كے اعلان كی تكذیب كے علاوہ اس كی عدالت میں بھی شبہ پیدا ہوجائے گا جو ناممكن ہے ـ ہاں ! یہ بات بالكل الگ ہے كہ كوئی خدا كی توحید كا قائل تو ہو لیكن اس كے عدل ہی كا قائل نہ ہو تو اس كا علاج مشكل ہے اور فلسفہ و حكمت یادین و مذہب كی منطقی دلیلیں اس كا ساتھ بہر حال نہیں دے سكتیں ِ یقیناً خداوند كریم نے ازل سے لیكر وفات رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تك اور وفات رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت تك كا ایك سلسلہ ہدایت قائم فرمایا ہے جو جاری و ساری ہے ـ سب سے پہلے حضرت حق نے مختلف انبیاء بھیجے اس كے بعد سرزمین عرب پر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو مبعوث فرمایا ـ اس كے بعد اللہ تعالی نے اپنے بندوں كے ذریعہ سے ہدایت كے سلسلے كو جاری ركھا جو اس كے اور اس كے رسول (ص) كے سب سے زیادہ مطیع ہونے كے ساتھ ساتھ مشیت كی حفاظت كرنے والے تھے ـ ان حضرات پر نازل سے لے كر ابدتك كی تمام فضیلتوں كا خاتمہ ہوگیا، اور انھیں ہی خلق فرمانے كے بعد خداوند متكبر نے اپنی شان میں قصیدہ احسن الخالقین پڑھا ـ یہ سلسلہ ہدایت جو بعد ختم نبوت بصورت امامت شروع ہوا اس كی ابتدا جیسا كہ ظاہر ہے مقام ختم نبوت سے ہوتی ہے اور انتہا اس مقام پر ہوتی ہے جہاں ذہن انسانی كی رسائی كے لئے نبوت جیسی كوئی علامت بھی موجود نہیں یہی سبب ہے كہ اس منصب جلیل كے ان حضرات كو تفویض كرنے میں خالق كا ئنات اس سے جتنے امتحان لے سكتا تھا اس نے لئے اور جتنی بلاؤں میں ان كو گرفتار لے سكتا تھا كیا، اور جب ان حضرات نے تمام مصیبتوں كو اور آزمائشوں كو صبر و شكر خدا كے ساتھ طے كیا تب خدائے بزرگ و برتر نے یہ منزلت اور یہ عہدہ انھیں عطا فرمایاـ

اس سلسلہ امامت كے پہلے امام، امیرالمومین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں اور آخری، امام عصر (ع) كی ذات گرامی ہے ـ جن كے سپرد یہ كام كیا گیا ہے كہ وہ دنیا كو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چكی ہوگی ـ

اس منصب خاص اور عہدہ جلیل كو قرآن مجید میں” امامت ” كہیں ” امانت ” كہیں ” ولایت امرسے تعبیر كیا گیا ہے ـ

اس سلسلے میں سب سے پہلے آیہ ” اولی الامر ” كی طرف ایك اشارہ مناسب معلوم ہوتا ہے ـ علامہ جمال الدین محدث جو اہل سنت كے جلیل القدر عالم گزرے ہیں اپنے مشہور تصنیف روضة الاحباب میں جناب جابر عبد اللہ انصاری سے روایت كرتے ہیں كہ جب خدانے اپنے رسول (ص) پر آیت نازل فرمائی كہ” یا ایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ و اطیعو الرسول و اولی الامر منكم ” (1) یعنی ایمان لانے والو اللہ كی اطاعت كرو، اس كے رسول كی اطاعت كرو اور صاحبان امر كی اطاعت كرو تو جابر فرماتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ (ص) سے عرض كیا كہ یا رسول اللہ (ص) ہم خدا اور اس كے رسول (ص) كو تو پہچانتے ہیں مگر یہ صاحبان امر كون ہیں جن كی اطاعت كو خدانے آپ كی اطاعت كے ساتھ ملادیا ہے ؟ پس رسول اللہ (ص) نے فرمایا :

"ھم خلفاتی من بعدی، اولھم علی بن البی طالب ٹم الحسن بن علی ثم الحسین بن علی ثم علی بن الحسین ثم محمد بن علی و ستدر كہ یا جابر فااذ لقیتہ فاقرئہ منی السلام، ثم الصادق جعفر بن محمد ثم موسی بن جعفر ثم علی بن موسی ثم محمد بن علی ثم علی بن محمد ثم حسن بن علی ثم حجة اللہ فی الارضہ و بقیة اللہ عزو جل علی یدیہ مشارق الارض و مغاربھا و ذالك الذی بغیب عن شیعتة و اولیائہ غیبة لا یثبت فیھا علی القول باماتة الا من امتحن اللہ قلبہ بالایمان ”

وہ میرے بعد میرے بارہ خلیفہ ہیں جن میں پہلے علی (ع) بن البی طالب ہیں پھر حسن بن علی پھر حسین بن علی پھر علی بن حسین پھر محمد بن علی علیھم السلام ہیں ( جو توریت میں باقر كے لقب سے مشہور ہیں ) اور اے جابر ! تم عنقریب ان كا زمانہ پاؤ گے پس ان سے میرا سلام كہنا پھر ان كے بعد جعفر بن محمد پھر موسی بن جعفر پھر علی بن موسی پھر محمد محمد بن علی پھر علی بن محمد پھر حسن بن علی پھر محمد بن حسن ابن علی علیھم السلام ہیں جو زمین میں خدا كی حجت اور بندگان خدا میں بقیة اللہ ہوں گے ـ وہی ہیں جن كے ہاتوں پر خدا زمین كے مشرق و مغرب كو فتح كردے گا ـ اور وہی ہیں جو اپنے شیعوں اور دوستوں سے اس طرح پوشیدہ ہوجائیں گے كہ ان كی امامت كے اعتقاد پر كوئی باقی نہیں رہ جائے گا ـ سوائے ان لوگوں كے جن كے دل كا خدا نے ایمان سے امتحان لیا ہو ـ

اس كے بعد جابر بیان كرتے ہیں كہ میں نے دریافت كیا كہ یا رسول اللہ (ص) ! كیا زمانہ غیبت میں شیعوں كو ان كے وجود سے فائدہ پہنچے گا ؟ ” فقال ای واللہ و الذی بعثنی بالنبوة انھم لیضیئون بنورہ و ینتفعوں بولایتة فی غیبة كانتفاع الناس بالشمس وان علاھا سحاب ” رسول (ص) نے فرمایا كہ ہاں ! قسم خدا كی جس نے مجھے نبی بناكر بھیجا ہے ان كے شیعہ ان كے نور سے اسی طرح روشنی حاصل كریں گے اور ان كی ولایت سے فائدہ اٹھائیں گے جس طرح لوگ آفتاب سے فائدہ اٹھاتے ہیں اگر چہ وہ بادلوں میں چھپا ہوا ہو ـ

آپ نے ملاحظہ فرمایا كہ آیت كریمہ ” اولی الامر ” كی شرح كرتے ہوئے رسول خدا (ص) نے یہ حدیث ارشاد فرمائی جو اہل سنت كے ایك جلیل القدر عالم نے جابر بن عبداللہ انصاری جیسے معزز صحابی سے نقل كی ہے حضور (ص) نے اس میں بتادیا كہ اولی الامر وہ بارہ خلیفہ ہیں جس دنیا خالی نہیں رہ سكتی اور جن كی معرفت ہر مدعی دنیاوالوں كی نگاہوں سے مخفی ہوجائے گا اور اس كی غیبت اتنی طولانی ہوگی كہ بجز ان لوگوں كے جن كے دل كا خدا نے ایمان سے امتحان لے لیا ہو اور كوئی بھی اس كا مقرنہ رہ جائے گا ـ

اس آیہ شریفہ سے اور اس كے بارے میں جس روایت كا ذكر ہوا اس سے یہ بات بالكل واضح ہوجاتی ہے كہ یہ آیہ كریمہ ائمہ اثنا عشری كی شان میں نازل ہوئی اور اولی الامر سے مراد یہی ائمہ اہلبیت (ع) ہیں جن كی آخری فرد حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف ہیں ـ

اس طرح یہ آیت جہاں كلی طور پر مسئلہ امارت و قیادت اور امامت و رہبری سے براہ راست تعلق ركھتی ہے وہیں ضمنا التزاماً حضرت ولی عصر (ع) كی ذات با بركت سے بھی ربط ركھتی ہے ـ اسی طرح وہ جتنی آیتیں جو مسئلہ امامت ورہبر پر روشنی ڈالتی ہیں ان كی روشنی میں امام عصر (ع) كی معرفت كا سفر بھی آسانی سے طے كیا جاسكتا ہے ان آیتوں كی تفصیل كلامی كتب كی بحث امامت میں موجود ہے ـ قطع نظر ان آیتوں كے قرآن حكیم كی متعدد آیتیں ایسی بھی ہیں جو بطور خاص صرف امام عصر (ص) ہی كی ذات گرامی پر روشنی ڈالتی ہیں یا كسی نہ كسی جہت سے آپ كے وجود، آپ كے قیام و ظہور اور آپ كی حیات و ہدایت كے كوائف سے پردہ كشی كرتی ہیں ـ اس ضمن میں بھی بعض علماء اعلام نے اپنے مقالات و كتب میں ان آیات كو جمع كرنے اور تفسیر كرنے كی سعی مشكور فرمائی ہے مثلا علامہ سید صادق الحسینی شیرازی كی ایك مكمل كتاب ” المہدی فی القرآن ” جو اس مقالہ كی تحریر كے وقت میرے پیش نظر ہے اسی موضوع كا احاطہ كرتی ہے ـ اس نفیس كتاب میں مختلف سورہ قرآنی كی ۱۰۴آیتوں كو پیش كیا گیا ہے جو صرف امام زمانہ (ع) كی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں اور جب ان پر نظر كی جاتی ہے تومعلوم ہوتا ہے كہ بعض آیتیں اس كتاب میں بھی شامل ہونے سے رہ گئی ہیں ـ میں پہلے سرسری طور پر ان آیتوں كی فہرست پیسش كرنا چاہوں گا جو اس كتاب میں مندرج ہوئی ہیں اور اس كے بعد بعض ان آیتوں كو بطور استدراك پیش كروں گا جو اس كتاب میں درج ہونے سے رہ گئی ہیں ـ لیكن ان كے بارے میں بھی صاف و صریح اور مستندروایات میں آیا ہے كہ وہ وجود امام عصر (ع) پر روشنی ڈالتی ہیں ـ اور آپ كی ذات تك رسائی كا وسیلہ و ذریعہ ہیں ـ آیات و ارادہ كتاب ” المھدی فی القرآن ” تالیف علامہ سید صادق الحسینی (رح) :

(۱) سورہ بقرہ كی سات مختلف آیتیں ـ (۲) سورہ آل عمران كی پانچ آیتیں ِ (۳) سورہ نساء كی پانچ آیتیں ـ (۴)سورہ مائدہ كی تیں آیتیں (۵) سورہ انعام كی پانچ آیتیں (۶) سورہ اعراف كی دو آیتیں (۷) سورہ انفال كی ایك آیت (۸) سورہ توبہ كی تین آیتیں (۹)سورہ یونس كی ایك آیت (۱۰) سورہ ابراہیم كی دو آیتیں (۱۱) سورہ یوسف كی ایك آیت (۱۲) سورہ ابراہیم كی دو آیتیں (۱۳)سورہ حجر كی تین آیتیں (۱۴) سورہ اسراء كی چار آیتیں (۱۵) سورہ انبیاء كی ایك آیت (۱۶) سورہ حج كی چھ آیتیں (۱۷) سورہ نور كی ایك آیت (۱۸) شعراء كی ایك آیت (۱۹) سورہ نمل كی دو آیتیں (۲۰)سورہ قصص كی دو آیتیں (۲۱) سورہ روم كی تین آیتیں (۲۲) سورہ سجدہ كی دو آیتیں (۲۳) سورہ احزاب كی ایك آیت (۲۴) سورہ سبا كی پانچ آیتیں (۲۵) سورہ ص كی چار آیتیں (۲۶) سورہ زمر كی دو آیتیں (۲۷) سورہ غافر كی ایك آیت (۲۸) سورہ فصلت كی ایك آیت (۲۹) سورہ شوری كی چار آیتیں (۳۰) سورہ زخرف كی دو آیتیں (۳۱) سورہ دخان كی چار آیتیں (۳۲) سورہ فتح كی دو ایتیں (۳۳) سورہ محمد كی ایك آیت (۳۴) سورہ فتح كی دو آیتیں (۳۵) سورہ ق كی دو آیتیں (۳۶) سورہ ذرایات كی ایك آیت (۳۷) سورہ قمر كی ایك آیت (۳۸) سورہ دہر كی ایك آیت (۳۹) سورہ قمر كی ایك آیت (۴۰) سورہ مجادلہ كی ایك آیت (۴۱) سورہ صف كی ایك آیت (۴۲) سورہ تغابن كی ایك آیت (۴۳) سورہ جن كی ایك آیت (۴۴) سورہ مدثر كی تین آیتیں (۴۵) سورہ تكویر كی ایك آیت (۴۶) سورہ بروج كی ایك آیت ـ

غرض قرآن حكیم كے ۱۴۴سورہ میں سے ۶۴سوروں كی یہ ۱۰۴آیتیں ہیں جو سید صادق الحسینی شیرازی نے اپنی كتاب المہدی فی القرآن میں نقل كی ہیں ـ اب ستدراك میں ان آیات كا تذكرہ كرنا چاہتا ہوں جو فاضل مولف مذكور نے كسی سبب سے نقل نہیں فرمائی ہیں ممكن ہے كہ ان سے اشتباہ ہوگیا ہو یہ ہوسكتا ہے كہ جو آیتیں میں پیش كروں گا وہ ان كے نزدیك امام (ع) كے وجود پر دلالت نہ ركتھی ہوں مگر چونكہ ان آیتوں كو معتبر و مستند حضرات نے نقل كیا ہے لہذا میں بھی دلائل و حوالات كے ساتھ نقل كررہا ہوں:

۱) سب سے پہلے سورہ مباركہ ملك كی آخری آیت ہے جو معروف و مشہور بھی ہے خداوند عالم اپنے رسول (ص) كی مخاطب كركے فرمارہاہے ” قل ارئیتم ان اصبح مائكم غورافمن یاتكم بماء معین ” یعنی اے رسول كہہ دو كہ بھلا دیكھو تو كہ اگر تمہارا پانی زمین كے اندر چلاجائے تو كون ایسا ہے جو تمہارے لئے پانی كا چشمہ بہالائے ـ

یہ آیہ كریمہ سید صادق الحسینی شیرازی نے اپنی كتاب میں نقل نہیں كہ ہے بعض معتبر حضرات نے اسے امام زمانہ (ع) كی فضیلت میں نقل فرمایا ہے مثلا آیہ اللہ العظمی ناصر مكارم شیرازی مدظلہ العالی نے تفسیر نمونہ میں اس آیت كا ذكر امام عصر(ع) كی فضیلت میں بیان كیا ہے اور دوسرے حضرات نے بھی اسے امام زمانہ (ع) كے بارے میں نقل فرمایا ہے ـ

۲) سورہ عصر یعنی ” والعصر ان الانسان لفی خسر” كو بھی بعض حضرات نے امام (ع) كے باب میں ذكر كیا ہے اور بیان فرمایا ہے كہ عصر سے مراد امام زمانہ (ع) ہے،

۳) اسی طرح سورہ قدر كو بھی بعض علماء نے حضرت ولی عصر (ع) كی ذات گرامی سے منسوب كیا ہے اور دلیل یہ پیش كی جاتی كہ نزول ملائكہ و روح كس پر ہوتاہے حالانكہ پیغمبر (ص) اسلام كا ظاہری وجود اس دنیا نہیں ہے تو كون سی ذات ایسی ہے جس پر نازل ہوتے ہیں ـ لہذا كوئی شخصیت ضرور ہے جس پر یہ ملائكہ و روح ہر شب قدر میں نازل ہوتے ہیں اور مقدرات الہی كو ظاہر كرتے ہیں ـ

۴) چوتھی آیہ شریفہ جس كا ذكر مولف مذكور نے نہیں كیا ہے وہ قرآن كریم كی بہت ہی مشہور معروف آیت كہ ” جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل كان زھوقا ” یعنی حق آیا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل مٹنے ہی والا تھا ـ

كتاب شواہد النبوہ ـ كتاب دفیات الاعیان اور كتاب روضة الاحباب، ان تینوں كتابوں كے مصنفین نے اس آیہ كریمہ كو امام زمانہ (ع) كی طرف منسوب فرمایا ہے اور تحریر ہے كہ امام زمانہ (ع) كی ولادت كے وقت یہ آیة كریمہ آپ كے داہنے بازو پر منقوش تھی ـ

شیخ عباس قمی نے اپنی كتاب منتہی الآمال میں بھی یہ آیة كریمہ كو امام (ع) كی طرح منسوب فرمایا اور تحریر فرمایا ہے كہ ولادت امام كے وقت یہ آیة شریفہ امام (ع) كے داہنے بازو پر منقوش تھی ـ

اور یہ بھی ملتاہے كہ امام (ع) كے ظہور كے وقت خانہ كعبہ كی دیوار سے پشت لگائے ہوئے عوام الناس كی طرف مخاطب ہوكر یہ آیہ كریمہ امام (ع) جبرئیل (ع) آسما ن سے اس آیت كی تلاوت فرمارہے ہوگے ـ

نتیجہ

مذکورہ مطالب اس بات پر بخوبی روشنی ڈال رہے ہیں کہ امام کی معرفت ہر دور میں لازم اور ضروری ہے قرآن نے اس طرف صرف اشارہ ہی نہیں بلکہ اس کا مکمل ذکر کیا ہے جس پر بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں، ان میں سے بعض آیات کو یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ آخر میں اس دعا كے ساتھ اس مختصر سے مقالے كو ختم كرنا چاہتا ہوں كہ پروردگا را ہمیں اہلبیت (ع) كی خصوصیت امام زمانہ (ع) كی معرفت عطا فرماتا كہ ہم تیری معرفت حاصل كرسكیں اور ان كے ظہور میں تعجیل فرما نیز ہمیں ان كے خادمین و انصار میں شمار فرما ـ