قرآن مجید میں قیامت کا نقشہ
logo512-articles

Abstract

By قرآن مجید میں قیامت کا نقشہ

مصنف: مصباح یزدی

مقدمہ

قرآن مجید سے یہ بات معلوم ہوتی ہے قیامت اور ابدی زندگی صرف انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے سے شروع نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے ،کہ اس دنیا کا نظام بھی تہ وبالا ہو جائے اور دوسری دنیا دوسری خصوصیات کے ساتھ عالم وجود میں آئے جس دنیا کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اس کے بارے میں کوئی نظریہ بھی نہیں دے سکتے اور اس کے بعد ابتداء خلقت سے لے کر اختتام دنیا تک کے تمام انسان زندہ کئے جائیں گے پھر اپنے اپنے اعمال کی جزاء وسزا انہیں ملے گی۔

چونکہ اس موضوع سے متعلق آیات قرآنی فراواں ہیں لہذا کتاب کے اختصار کے پیش نظر ان سے کنارہ کشی کرتے ہوئے صرف ان کے مضامین کا خلاصہ بیان کررہے ہیں۔

زمین دریا اور پہاڑوں کی حالت

زمین میں بہت ہی عظیم زلزلہ آئے گا(١)زمین اپنے اندر تمام پوشیدہ خزانے اگل دے گی(٢) اور اس کے سارے اجزا بکھر جائیں گے(٣)دریا پھٹ جائیں گے(٤)اور سارے پہاڑ حرکت میں آجائیں گے(٥) اور ایک دوسرے سے ٹکرا دئے جائیں گے(٦)اور ریت کے ٹیلے کی

طرح ہو جائیں گے(٧)اوردھنی ہوئی روئی کے مانند بن جائیں گے(٨)اور پھر فضا میں بکھر جائیں گے(٩) اور اونچے اونچے آسمانوں سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑوں کو ریت کے چٹیل میدان میں تبدیل کردیا جائے گا(١٠)

آسمانوں اور ستاروں کی کیفیت

چاند(١١)اور سورج(١٢)اور وہ عظیم ستارے جو ہمارے سورج سے کروڑوں گنا بڑے اور چمکدار ہیں سب کی چمک دمک ختم ہو جائیگی اور سب تیرگی میں چلے جائیں گے(١٣)اور ان کا ایک نظام کے مطابق حرکت کرنا ختم ہو جائے گا(١٤)اور سورج وچاند آپس میں ٹکراکر ایک ہوجائیں گے(١٥) اور وہ آسمان جو اس دنیا پر مضبوط اور محفوظ چھت کی طرح ہے متزلزل اور کمزور ہوجائے گا(١٦)اور پھٹ جائے گا اور اس میں دراڑیں پڑ جائیں گی(١٧) اور اس کی چادر لپیٹ دی جائے گی (١٨)اور سارے آسمانی سےّارے پگھلی ہوئی دھات کی طرح ہوجائیں گے(١٩)اور اس دنیا کی فضا دھوئیں اور بادل سے بھر جائیگی (٢٠)

…………………………

١۔ زلزال ١ حج ١ واقعہ ٤ مزمل ٤١ ، ٢۔ زلزال ٢،انشقاق ٤ ، ٣۔ الحا قہ ١٤ ، فجر ٢١ ،

تکویر ٦ ، انفطا ر ٣٥۔ کہف ٤٧ ، نحل ٨٨ ، طور ١٠ تکویر ٢ ، ٦۔ الحا قہ ٤، واقعہ ٥ ، ٧۔ مزمل ١٤ ،

٨۔ معارج ٩ ، قارعہ ٥٩۔طہ ٰ١٠٥ ، مرسلا ت ١٠ ، ١٠۔ کہف ٨، نبا ء ١١٢٠۔ قیامت ٨ ، ۔١٢ تکویر ١، ١٣۔ تکویر ٢ ، ١٤ ۔انفطا ر ٢ ، ١٥۔قیا مت ٩ ،١٦ ۔ طور ١ ، حا قہ ١٦ ، ١٧۔ رحمٰن ٣٧،حا قہ ١٦، مزمل ١٨ ، مر سلات ١٩، انفطا ر ١ ، انشقا ق ١ ، ۔ انبیا ء ١٠٤ ،تکویر ١١١٩۔معا رج ٨ ، ٢٠۔ فر قان ٢٥، دخا ن ١٠ ،

موت کا صور:

ایسی ہی حالت میں موت کا صور پھونک دیا جائے گا اور تمام زندہ موجودات مر جائیں گے(١) اور اس فطری دنیا میں زندگی کا کوئی اثر نہیں ملے گا،اور خوف و اضطرار ہر ایک پر چھا جائے گا(٢)مگر وہ لوگ جو ہستی اور موجودات کے اسرار اور حقیقت سے واقف ہیں اور جن کے دل خدا کی محبت اور معرفت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

زندگی اور آغاز قیامت کا صور:

پھر وہ دوسرا جہان جس میں بقا اور ابدیت کی قابلیت پائی جاتی ہے معرض وجود میں آئے گا(٣)اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگااٹھے گی(٤)اور زندگی کے صور کی آواز بلند ہوگی (٥) اور سارے انسان(بلکہ حیوانات بھی) (٦) ایک لمحے میں زندہ ہو جائیں گے(٧)اور پھر گھبرا ئے ہوئے اور پریشان حال(٨)ٹڈیوں اور فضا میں اڑ تی ہوئی پتنگوں(٩)کے مانند تیز رفتاری (١٠) سے اپنے رب کے پاس حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوجائیں گے(١١)اور سب ایک میدان میں جمع ہوجائیں گے(١٢)اس وقت سوچیں گے کہ عالم برزخ میں ان کا توقف ایک دن یا ایک گھنٹہ کے برابر تھا(١٣

………………………………

١۔ زمر ٦٨ ، حا قہ ١٣ ، یٰس ٤٩ ، ٢۔نمل ٨٧ ، ٨٩ ، ٣۔ ابرا ہیم ٤٨،زمر ٦٧، مر یم ٣٨، ق ٢٢

٤۔ زمر ٦٩ ، ٥۔ زمر ٦٨ ، کہف ٩٩،ق٢٠ ،٤٢،نبا ١٨،نا زعا ت ١٣ ۔١٤ ، مدثر ٨ ، صا فا ت ١٩

٦۔انعام ٣٨ ، تکویر ٥ ،٧ ۔کہف ٤٧ ، نحل ٧٧ ، قمر ٥٠ ، نبا ١٨ ، ٨۔ق ٢٠

٩۔ قارعہ ٤، قمر ٧ ، ١٠۔ ق ٤٤ ۔ معا رج ٤٣

١١۔ یٰس ٥١ ، مطففین ٣٠ ، قیا مت ١٢ ۔١٣ نیز آیا ت حشر و نشر

کہف ٩٩، تغا بن ٩ نساء ٧٨ ، انعام ١٢، آل عمران ٩

١٣۔ روم ٥٥، نا زعا ت ٤٦ ، یو نس ٤٥ ، اسرا ء ٥٢ طہٰ ١٠٣۔١٠٤ ، مو منون ١١٣ ، احقاف ٣٥

الٰہی حکومت کا ظہور اور سببی ونسبی رشتوں کا خاتمہ:

اُس جہان میں حقیقتیں کھل کر سامنے آجائیںگے،(١)اور خدا کی حکومت اور سلطنت کا مکمل ظہور ہو جائے گا،(٢)اور مخلوقات پر ایک ہیبت طاری ہوگی کسی کو بھی بلند آواز میں گفتگو کرنے کی جرأت نہیں ہوسکتی(٣)اور ہر ایک کو اپنے انجام کی فکر ہوگی یہاں تک کہ اولاد اپنے والدین سے اور رشتہ دار و قرابت دار ایک دوسرے سے دور بھاگیں گے اور اپنا منھ چھپائیں گے(٤)اور سببی ونسبی رشتوں کی بنیاد ہی ختم ہوجائے گی(٥)اور وہ دوستیاں کہ جو دنیاوی اور شیطانی مفاد و معیار پر استوار تھی دشمنی میں بدل جائے گی(٦)اور اپنی گذشتہ غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے حسرت ویاس اور شرمندگی،ہر دل پر چھا ئی ہوگی(٧)

………………………………

١۔ ابرا ہیم ٢١ ۔ العادیا ت ١٠ ، طا رق ٩ ق ٢٢ الحا قہ ١٨

٢۔ حج ٦٥، فر قان ٢٦ ، غا فر ١٦ ، انفطا ر ١٩

٣۔ ہود ١٠٥ ، طہٰ ١٠٨، ١١١ ، نبا ٣٨

٤۔ عبس ٣٤۔٣٧، شعرا ء ٨٨ ، معا رج ١٠ لقمان ٣٣

٥۔ بقرہ ١٦٦، مومنون۔آیت/١٠١

٦۔ زخرف ٦٧

٧۔ انعام ٣١ ، مر یم ٣٩ ، یو نس ٥٤

اُس و قت خدا کی عدالت میں حاضری ہوگی ،اور سارے بندوں کے اعمال حاضر کئے جائیں گے،(١) اور نامہ اعمال تقسیم کیا جائے گا(٢)اور ہر نیک و بد کام کی نسبت اس کے فاعل کی طرف اتنی واضح اور روشن ہوگی ،کہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، کہ تم نے کیا کیا ہے؟(٣) اس دادگاہ (عدالت) میںفر شتے پیغمبران الہٰی اور خدا کے منتخب بندے ،گو اہوں کے عنوان سے حا ضر ہو ں گے (٤) یہاں تک کہ انسان کے ہا تھ پیر اوربدن کی کھال تک اس کے خلاف گواہی دے گی(٥)اور سارے انسانوں کے حساب و کتاب میں بہت دقت اور غور سے کام لیا جائے گا، اور خدا کی میزان پر تولا جائے گا(٦) اور پھر عدل وانصاف کی بنیاد پر ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا(٧) اور ہر ایک کو اس کی محنتوں کا پھل ملے گا(٨)نیک کام کرنے والوں کو دس گنا انعام دیا جائیگا(٩)اور کوئی بھی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا(١٠)لیکن جن لوگوں نے دوسروں کو گمراہ کیا ہے وہ اپنے گناہوں کے علاوہ گمراہ ہونے والے افراد کے گناہوں کو بھی اپنے دوش پر اٹھا ہیں گے(١١) (بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی کی جائے)اسی طرح کسی سے بھی کسی چیز کا عوض اور بدلہ قبول نہیں کیا جائیگا(١٢)کسی کی سفارش قبول نہیں ہوگی(١٣)مگر ان لو گوں کی شفا عت قبو ل ہو گی، جنکو خدا کی طرف سے اجا زت دی گئی ہے اور وہ لو گ خدا کی مر ضی اور معیا ر کے مطا بق شفا عت کر یں گے(١٤)

………………………………………

١۔ آل عمران ٣٠ ، تکویر ١٤، اسراء ٤٩ ،

٢۔ بنی اسرائیل ١٣۔١٤ ۔١٧ ، الحا قہ ١٩ ۔٢٥ ، انشقاق ١٠٧

٣۔ رحٰمن ٣٩ ،

٤۔زمر ٦٩ ،بقرہ ١٤٣،آل عمران ١٤ ، نسائ۔٦٩ ، ہود ١٨ ۔حج ٧٨ ،ق ٢١، نحل ٨٤ ۔٨٩

٥۔ نور ٢٤ ،یٰس ٦٥ ،فصلت ٢٠ ۔٢١ ،

٦۔ اعرا ف ٨۔٩، انبیا ء ٤٧، مو منوں ١٠٢۔١٠٣ ، قارعہ ٦۔٨

٧۔ یو نس ٥٤۔٩٣ ، جا ثیہ ١٧ ،نحل ٧٨ ، زمر ٦٩ ۔٧٥

٨۔ النجم ٤٠۔٤١، بقر ہ ٢٨ ،٢٨٦ ، آل عمر ان٢٥ ۔ ١٦١،انعام ٧٠، ہو د ١١١ ، ابرا ہیم ٥١ ،

٩۔ انعام ١٦٠،

١٠۔ النجم ٣٩ ، انعام ٤٦،فا طر ١٨ زمر ٧

١١۔ نحل ٢٥ ، عنکبو ت ١٣ ، یہا ں پر یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ جو لو گ دوسرو ں کی ہد ایت کا سبب بنتے ہیں دو گنا

ثو اب پا ئیں گے جیسا کہ روا یا ت میں صا ف وا ضح ہے ۔

١٢۔بقرہ ٤٨ ، ١٣٢، آل عمران ٩١ لقمان ٣٣ ، ما ئدہ ٣٦، حدید ١٥

١٣۔ بقر ہ ٤٨ ، ١٢٣ ، ٢٥٤، مد ثر ٤٨

١٤۔ انبیا ء ٢٨ بقرہ ٢٥٥،یو نس ٣ ،مر یم ٨٧،،طٰہ ١٠٩ ،سبا ٣٣، زخر ف ٨٦ نجم ٢٦،

ابدی ٹھکا نے کی طرف روانگی:

اسکے فوراً بعد خدا کے حکم کا ا علا ن کیا جا ئے گا (١) نیک کام کر نے وا لے اور گنہگا ر ایک دوسرے سے جد ہوجا ئیں گے (٢) اور مو منین سرخرو ،شا داب اور مسر تو ں میں ڈو بے ہو ئے جنت کی طرف (٣) اور کفار منا فقین جنکے چہرے سیا ہ ہو گئے ہو ں گے غمگین وپر یشا ن ذلت و خو ا ری کے ساتھ جہنم کی طرف رو انہ ہو ں گے (٤) اور سب کے سب جہنم سے ہو کر گذر یں (٥) اس حا لت میں کہ مو منوں کے چہرے سے نو ربر س رہا ہو گا اور ان کے راستے روشن ہوں گے (٦) اور کفار و منافقین اندھیرے میں پھنسے ہوڈ گے اور منافقین جو اس دنیا میں مومنین کے ساتھ گھلے ملے رہتے تھے مو منین کو آواز دیں گے کہ ہما ری طرف اپنا چہر ہ گھما و تاکہ تمھا رے نور سے فا ئدہ اٹھا ئیں تو اس وقت وہ جو اب سنیں گے کہ اس نور کو پانے کے لئے پچھلے پاؤں ( دنیا میں )پلٹ جا ئو! پھر وہ منا فقین اور کفا ر کہیں گے کہ کیا بھول گئے ؟کیا تمھارے سا تھ اس دنیا میں نہیں تھے ؟ پھر جو اب پا ئیں گے کیوں نہیں ظاہر اً ہما رے ہی سا تھ تھے لیکن تم نے خو د کو گر فتا ر کر لیا تمھا رے دل میں شک پیدا ہو گیا اور تم سنگدل ہو گئے اور آج تمھا را فیصلہ ہو گیا آج تم سے اور کا فروں سے کوئی قبو ل نہیں کیا جا ئیگا۔

اور آخر کا ر کفا ر و منا فقین کو جہنم کے منھ میں جھو نک دیا جا ئے گا (٧)

جس وقت مو منین جنت کے نز دیک پہنچیں گے تو اس کا در وا زہ کھو ل دیا جا ئیگا اور رحمت کے فر شتے ان کا استقبا ل کر یں گے ،سلا م و احتر ام کے سا تھ ان کو ابدی سعا دت کی خو ش خبر ی سنا ئیں گے ،(٨) اور دوسری طر ف جب کفا ر و منا فقین جہنم کے نز دیک پہنچیں گے تو اس کا دروازہ کھل جا ئیگا اور عذا ب کے فر شتے سختی سے ان کی مذمت کریں گے اور ان کو ابدی عذا ب کی خبردیں گے (٩)

…………………………………

١۔اعرا ف ٤٤

٢۔انفال ٣٧ ، روم ١٤ ، ١٦ ،٤٣، ٤٤ ، شو ریٰ ٧ ، ہو د ١٠٥، ١٠٨ ، یٰس ٥٩

٣۔ زمر ٧٣ ، آل عمر ان ١٠٧ مر یم ٨٥ ، قیا مت ٤٢ ،٢٤ ، مطففین ٢٤ ، غا شیہ ٨ عبس ٣٨ ۔٣٩

٤۔ زمر ٦٠۔٧١، آل عمر ا ن ١٠٦، انعام ١٢٤، یو نس ٢٧ مر یم ٨٦ طہٰ ١٠١،١٢٦ ،١٢٤، ابرا ہیم ٤٣ ،قمر ٨ معا رج ٤٤، غا شیہ ٢ اسرا ء ٧٢،٩٧ ، عبس ٤٠،٤١

٥۔ مر یم ٧١ ،٧٢

٦۔ حد ید ١٢

٧۔ حدید ١٣۔١٥ ، نساء ١٤٠

٨۔ زمر ٧٣ ، رعد ٢٢،٢٤

٩۔ زمر ٧١ ، ٧٢ ، تحریم ٦، انبیا ء ١٠٣

جنت:

بہشت مین آسما نوں اور زمینوں کی وُسعت کے برا بر لمبے چو ڑے با غات ہو نگے (١) ہر قسم کے پھلو ں سے لدے ہو ئے طر ح طر ح کے درخت جو ہر وقت انسا ن کی دسترس میں ہو ںگے (٢) اور عظیم و خو بصورت مکا نا ت ہو نگے اور صا ف و شفاف پا نی کی نہریں اور چشمے ہو نگے(٣) نیز دو دھ و شہد اور پا ک و پا کیزہ ،طیب و طا ہرشراب(٤) اور ہر وہ چیز جس کا د ل چاہے یا بہشتیوں کو ضرورت محسوس ہو وہ موجود ہو گی (٥) او ر ان کی خو اہشا ت سے زیا دہ چیزیں مو جو د ہونگی (٦)اور بہشتی لو گ وہاں ریشم کے نرم و نا زک لبا س میں ملبوس اور مختلف قسم کی ز ینتوں سے آراستہ ہو ں گے (٧) اور سجے ہو ئے تخت پر نر م ولطیف بستر پر ٹیک لگا ئے ایک دوسرے کے سا منے بیٹھے ہوئے خدا کی حمد و ثنا میں مشغول ہو نگے (٨)اور کوئی بھی غلط با ت نہ تو زبان پر جاری کریں گے اور نہ ہی کا نوں سے سنیں گے (٩) نہ ٹھنڈک ان کو تکلیف پہنچا ئے گی اور نہ گر می کا احساس ان کو اذیت دے گا (١٠) اور نہ تو کسی طر ح کا رنج و ملا ل اور نہ ہی تھکن کا احسا س ہو گا (١١) اور نہ تو کوئی غم ہو گا اور نہ ہی کو ئی خوف،(١٢)

……………………………

١۔ آل عمر ان ١٣٣، حدید ٢١ ،

٢۔ الحا قہ ٢٣، دہر ٦۔١٨ ،٢١ مطففین ٢٨

٣۔ بقرہ ٢٥ ، آل عمران ١٥، اور دسیوں دوسری آیتیں

٤۔ محمد ۖ١٥ ،دھر ٦۔١٨ ، ٢١ مطففین ٢٨

٥۔ نحل ٣١ ، فر قان ١٦ زمر ٣٤، فصلت ٣١ شوریٰ ٢٢ زخر ف ٧٠ ،٧١ ،ق ٣٥

٦۔ ق ٣٥ ، ٧۔ کہف ٣١ ،حج ٢٣ ، فا طر ٣٣ دخا ن ٥٣ ، دھر ٢١۔اعرا ف ٣٢ ،

۔ اعرا ف ٤٣، یو نس ١٠ ، فا طر ٣٤ زمر ٧٤

٩۔مر یم ٦٢ ،نبا ء ٣٥ ، غا شیہ ١١

١٠۔ الد ھر ١٣ ، ١١۔ مر یم ٦٢ ، نبا ء ٣٥ ، غا شیہ ١١

١٢۔ ، اعرا ف ٣٥، حجر ٤٨ ،

اور نہ کسی کے دل میں کوئی کینہ ہو گا نہ دشمنی (١) حسین و جمیل خد مت گزا ر ان کے چا روں طر ف ٹہلتے ہو ںگے(٢) اور جنتی شرا ب کا جام ان کو پلا رہے ہو ں گے کہ جس کی لذت و نشا ط قابل تو صیف نہیں ہے، اور کسی طر ح کا نقصا ن نہ ہو گا (٣)کئی قسم کے پھل اورپر ندوں کے گو شت نو ش فر ما رہے ہوں گے (٤) اورخو بصو رت و مہر بان نیز پا کدا من شریک حیا ت اور سا تھیوں سے لطف اندوز ہو نگے( ٥) اور ہر چیز سے بڑھ کر رضا ئے پرو ردگا ر کی رو حا نی نعمت سے سر فرا ز ہو نگے (٦)اور خد کی ایسی مہر با نی ان کے شا مل حا ل ہو گی جو انھیں خو شیو ں میں غر ق کر دیگی اور کو ئی بھی خو شیو ں کے اس مر تبے کو تصور بھی نہیں کر سکتا (٧)اور یہ بے نظیر سعا دت اور ناقابل تو صیف نعمتیں اور خدا کی رحمت ،رضا و خوشنودی ہمیشہ ہمیشہ ان کے سا تھ ر ہے گی (٨) جو کبھی ختم ہو نے والی نہیں ہے (٩)

……………………………

١۔ اعرا ف ٤٣ ، حجر ٤٧

٢۔ طور ٢٤ ، واقعہ ١٧ ، دھر ١٩

٣۔ صا فا ت ٤٥ ۔٤٧ ص ٥١ ،طور ٢٣ ، زخرف ٧١ واقعہ ١٨۔١٩ دھر ٥۔٦۔١٥ ،١٩ ، نبا ٣٤ مطففین ٢٥، ٢٨

٤۔ ص ٥١ طور ٢٢ رحمٰن ٥٢ ،٦٨ ، واقعہ ٢٠۔٢١ ، مر سلا ت ٤٢ ، نبا ٣٢

٥۔ بقرہ ٢٥ آل عمران ١٥ ،نسا ء ٥٧ صا فا ت ٤٨ ۔٤٩ ص ٥٢ زخرف ٧٠ دخا ن ٥٤ طور ٢٠ رحمٰن ٥٦ ،٧٠ ،٧٤ واقعہ ٢٢ ۔٢٣ ،٣٤ ،٣٧ ، نبا ٣٣

٦۔ آل عمرا ن ١٥ ، تو بہ ٢١،٧٢ حدید ٢٠ ، ما ئدہ ١١٩ مجا دلہ ٢٩ بینہ ٨

٧۔ سجدہ ١٧

٨۔ بقرہ ٢٥ ،٨٢ آل عمر ان ١٠٧ ،٣٦ ،١٩٨ ، نساء ١٣ ، ٥٧ ، ١٢٢ ، ما ئدہ ٨٥ ،١١٩ ،اعراف ٤٢ ،تو بہ ٢٢،٧٢،٨٩ ، ١٠٠، یو نس ٢٦ ، ھو د ٢٣ ، ١٠٨، ابراہیم٢٣، حجر ٤٨، کہف ٣ ، ٨١٠ ، طہٰ ٧٦ انبیا ء ١٠٢ ، مو منون ١١ فر قان ١٦ ،٧٦، عنکبو ت ٥٨ ، لقما ن ٩، زمر ٧٣ ، زخر ف ٧١، احقاف ١٤ ، ق ٣٤، فتح ٥،حدید ١٢ ، مجا دلہ ٢٢ ، تغا بن ٩ طلا ق١١،بینہ ٨،

٩۔ دخا ن ٥٦، فصلت ٨، انشقاق ٢٥، تین ٦ ،

جہنم :

جہنم ان کا فر وں اور منا فقوں کا ٹھکا نہ ہے جن کے دلو ں میں ایما ن کا نو ر با لکل نہیں پا یا جا تا (١) اور جہنم کے اندر اتنی وسعت اور گنجا ئش پا ئی جا تی ہے کہ سا رے گنا ہ گا روں کو اپنے اند ر بھر لینے کے بعد بھی ( ہل من مزید) ( کیا کو ئی اور بھی ہے ) کی آواز بلند کر یگا (٢) اس میں صر ف آگ ہے اور بس، عذا ب ہے اور بس !!

چا روں طرف اس کے شعلے بلند ہو نگے اور کانون کو پھا ڑدینے والی غصہ سے بھری آوازیں خو ف و اضطرا ب میں اضا فہ کریں گی(٣) وہا ں لو گو ں کے چہرے سکڑے ہو ئے ،سیا ہ ، کریہ المنظر ، اور جھر یوں سے بھرے ہو ں گے (٤)یہا ں تک کہ دو زخ کے فر شتو ں کے چہرے پر بھی مہر بانی ،محبت اور نرمی کے آثا ر نہیں دکھا ئی دیں گے (٥) جہنم کے لو گ لو ہے کے طو ق و سلا سل نیز ہتھکڑیوں بیڑیوں سے با ندھے جا ئیں گے، (٦) اور آگ انھیں سر سے پیر تک اپنے قبضے میں لئے ہو گی (٧) اور خو د وہی لو گ آگ بنا نے اور لگا نے والے ہو ں گے (٨) جہنم کی فضا میں سوا ئے آہ و فغا ں ، فریا د و بکا اور نا لہ و شیون اور جہنم کے اوپر تعینا ت فر شتوں کی خوفنا ک اور گرجدا ر آواز کے اور کچھ سنا ئی نہیں دیگا (٩) اور گنہگا روں کے اوپر کھو لتا ہو ا گر م پا نی انڈیلا جا ئے گا، جو ا ن کو اند ر سے پگھلا دیگا (١٠)

…………………………

١۔ نساء ١٤٠ ، اور دوسری دسیو ں آیتیں ۔

٢۔ ق ٣٠، ، ٣۔ ھو د ١٠٦ ، انبیا ء ١٠٠ ، فر قان ١٢ ، ملک ٧،٨

٤۔ آل عمران ١٠٦ ، ملک ٢٧ ، مو منون ١٠٤ ، زمر ٦٠

۔ تحریم ٩١ ، ٦۔ رعد ٥ ، ابرا ہیم ٤٩،صبا ٣٣ غا فر ٧١،٧٢، الحا قہ ٣٢ دھر ٤ ،

٧۔ ابرا ہیم ٥٠ فر قان ١٣، انبیا ء ٩٨ ، جن ١٥، تحر یم ٦

٨۔ بقرہ ٢٤، آل عمران ١٠، انبیا ء ٩٨، جن ١٥، تحریم ٦

٩۔ فر قان ١٣ ،١٤ انشقاق ١١ ،

١٠۔حج ١٩،٢٠ دخا ن ٤٨،

اور جب کبھی گر می اور پیا س کی شد ت کی و جہ سے پا نی کی در خو ا ست کریں گے تو انھیں گر م جلتا ہوا ا ور نجس و بد بو دا ر پا نی دیا جا ئے گا، جسے وہ لو گ بہت ہی شو ق سے پئیںگے (١) اور ان لو گو ں کی غذا درخت ( زقوم ) ہے جو آگ سے اگتا ہے جس کو کھا نے سے اندرونی سوز ش و جلن میں اضا فہ ہو جا ئیگا (٢) اور ان کا لبا س ایک سیا ہ اور چپکنے والے ما د ے سے بنا ہو ا ہو گا جو ان کے لئے ایک عذ ا ب کا با عث ہو گا (٣)اور شیا طین و جنا ت کے گنہگا ر بھی ان کی ہمنشینی سے دو ر بھا گیں گے (٤) اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور مذمت کریں گے (٥) اور جس وقت وہ لو گ خد ا کی با رگا ہ میں معذرت خوا ہی کے لئے اپنی زبا ن کھو لیں گے اس وقت دور ہو جاؤ خا مو ش ہو جاؤ ایسے الفاظ سے انھیں خاموش کر دیا جائے گا (٦)پھر وہ لو گ جہنم کے دربان کے پا س پنا ہ لیں گے ،اور ان سے در خو است کریں گے کہ تم ہی خدا سے ہما ر ے عذا ب میں کمی کے لئے سفا رش کر و، تو وہ جو اب پا ئیں گے کہ کیا خدا وند عالم نے اپنے پیغمبر وں کو مبعوث نہیں کیا تھا ،اور تمھا رے اوپر اس نے اپنی حجت تما م نہیں کی تھی ؟(٧) دو با رہ مر نے کی تمنا کر یں گے اور جو ا ب پا ئیں گے کہ اب تم ہمیشہ اسی جہنم میں رہو گے (٨) اگر چہ مو ت انکے اوپر چا روں طرف سے بر س رہی ہو گی مگر اس کے با وجو د نہیں مر یں گے (٩) اور انکے بدن کی جتنی کھا ل آگ میں جلتی جا ئیں گی اتنی ہی نئی کھا ل اگتی جا ئیں گی (١٠) اور ان پر عذا ب ہو تا رہے گا ۔

……………………………

١۔ انعام ٧٠ ، یو نس ٤ کہف ٢٩، واقعہ ٤٢ ، ٤٤، ٥٥ ، محمد ۖ١٥

٢۔ صا فا ت ٦٢ ، ٦٦، ص ٥٧، دخا ن ٤٥ ، ٤٦ ، واقعہ ٥٢ ،٥٣ نباء ٢٥ ، غا شیہ ٦ ،٧

٣۔ ابرا ہیم ١٧،طہٰ ٧٤ فا طر ٣٦٤۔ زخرف ٣٨۔ ٣٩ ، شعراء ٩٤۔٩٥ ،ص ٨٥ ،

٥۔ اعرا ف ٣٨ ۔٣٩ ، عنکبو ت ٢٥، مر سلا ت ٣٥۔٣٦،

٦۔ مو منو ن ١٠٨ ، روم ٥٧ ، غا فر ٥٢،مر سلا ت ٣٥۔٣٦

٧۔ غا فر ٤٩۔٥٠، ٨۔ زخرف ٧٧، ٩۔ ابراہیم ١٧، طہٰ ٧٤ ، فا طر ٣٦

١٠۔ نساء ۔٥٦،

بہشتیو ں سے تھو ڑے کھا نے پا نی کی بھیک ما نگیں گے تو جوا ب سنیں گے کہ خدا نے بہشتی نعمتوں کو تمھا رے اوپر حر ام کر دیا ہے (١) اور بہشتی لو گ ان سے پو چھیں گے کہ کو نسی چیز تمھا ری بد بختی کا سبب ہے اور تمھیں جہنم میں کھینچ لا ئی ہے ؟ تو لو گ کہیں گے کہ ہم نماز یو ں اور خدا کے عبا دت گذا ر بند وں میں سے نہیں تھے اور غریبو ں کی مدد نہیں کر تے تھے اور فسا دیوں کے سا تھ مل کر رہتے تھے اور روز قیا مت کو جھٹلا تے تھے (٢) اس وقت آپس میں ایک دوسرے سے الجھ جا ئیں گے ،اور لڑنے لگیں گے(٣) گمرا ہ ہو نے وا لے گمر اہ کر نے والوں سے کہیں گے ،کہ تم ہی لو گو ں نے ہمیں گمرا ہ کیا ہے وہ لو گ جواب دیں گے کہ تم لو گو ںنے اپنی رضا اور خواہش سے ہما ری پیر وی کی ہے(٤) نیچے کا م کر نے والے اپنے اوپر کا م کرنے والے ( رعا یا اپنے حا کم یا ارباب ) سے کہیں گے کہ تم ہی نے ہمیں اس سختی تک پہچا یا ہے وہ جو اب دیں گے کہ کیا ہم نے زبر دستی اور جبراً تم کو راہ راست سے روکا تھا(٥) با لا خر وہ لو گ شیطا ن سے کہیں گے کہ ہم لو گو ں کی گمرا ہی کا سبب بنا ہے تو وہ جوا ب دے گا کہ خدا نے تم سے سچا وعدہ کیا لیکن تم لو گو ں نے قبول نہیں کیا اور میں نے جھو ٹا وعدہ کیا تو تم نے قبو ل کر لیا، لہٰذا میری مذمت کے بجا ئے خود اپنی مذمت کرو، اور آج ہم میں سے کو ئی بھی ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکتا (٦) لہٰذا اپنی نا فر ما نی اور کفر کی سزا بھگتنے کے اور کو ئی چا رہ نہیں ہے لہذا ہمیشہ ہمیشہ عذا ب میں مبتلا رہیں گے (٧)

……………………………

١۔ اعرا ف ٥٠ ، ٢۔ مدثر ٣٩۔٤٧ ، ٣۔ ص ٥٩، ٦٤

٤۔ اعراف ٣٨،٣٩ صا فا ت ٢٧ ۔٣٣ ،

٥۔ابراہیم ٢١ ،سباء ٣١ ،٣٣ ،

٦۔ ابر اہیم ٢٢،

٧۔ بقرہ ٣٩، ٨١، ١٦٢، ٢١٧،٢٥٧،٢٧٥، آل عمران ٨٨،١١٦ ،نساء ١٦٩ ، ما ئدہ ٣٧، ٨٠ انعام ١٢٨، اعرا ف ٣٦،تو بہ ١٧، ٦٣، ٦٨، یو نس ٢٧ ، ٥٢، ھو د ١٠٧ ، رعد ٥، نحل ٢٩ ، کہف ١٠٨ ، طہٰ ١٠١ ، سجدہ ٢٠، مو منون ١٠٣ ، احزاف ٦٥، زمر ٧٢، غا فر ٧٦، زخرف ٧٤ مجا دلہ ١٧ ، تغا بن ١٠ ، جن ٢٣ ، بینہ ٦

نتیجہ

قیامت کے بارے میں بہت سے مکاتب فکر نے اپنا اپنا نظریہ پیش کیا ہے مگر جو نظریہ اسلام نے پیش کیا ہے وہ بے مثل ہے ، اللہ نے قرآن کریم میں قیامت کا جو منظر پیش کیا ہے اسکو پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے کوئی دیکھ کر آیا ہو اور پھر اسنے تصویر کشی کی ہو۔ قرآن کی آیات اس کی زندہ مثال ہیں۔