قرآن کی جمع آوری
logo512-articles

Abstract

By قرآن کی جمع آوری

قرآن مجید جس نظم و ترتیب کے ساتھ ہمارے ہاتھوں میں ہے مختلف ادوار میں اور مختلف گروہ کے ہاتھوں جمع ہوا ہے۔آیتوں کی نظم و ترتیب اور ہر سورہ کی آیتوں کی تعدادپیغمبر اکرم کے حکم سے ہے ۔ہر سورہ کا آغاز ﴾بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ﴿ کے نزول سے ہوا اور جب دوسری”﴾ بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ﴿“ نازل ہوتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ ایک سورہ مکمل ہو گیا۔البتہ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ پیغمبر اکرم (ص)جبرئیل ع کے کہنے پر ایک آیت کو نزول کے اعتبار سے اس کی طبیعی جگہ سے ہٹا کر کسی دوسرے سورہ میں رکھ دیتے تھے۔جیسے آیت ﴾وَ اتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فيهِ إِلَي اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّي کُلُّ نَفْسٍ ما کَسَبَتْ وَ هُمْ لا يُظْلَمُونَ (بقرہ ۲۸۱) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ان آیات میں سے ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئی لیکن پیغمبر(ص) نے حکم دیا کہ اسے سورہ بقرہ میں آیات ربا اور آیت دین کے درمیان لکھا جائے۔ لہٰذا آیتوں کی ترتیب میں اختلاف نہیں ہے سب یہی مانتے ہیں کہ آیتوں کی ترتیب چاہے نزول کے اعتبار سے ہو یا اس کے برخلاف پیغمبر اسلام کے حکم سے ہوئی ہے۔

سورتوں کی ترتیب

سورتوں کی ترتیب کے بارے میں اہل نظر کے درمیان اختلاف ہے :سید مرتضی علم الھدیٰ اور بہت سے محققین جیسے حضرت آیت اللہ العظمی خوئی(رح) کا نظریہ ہے کہ جو قرآن آج ہمارے درمیان موجود ہے اس کی آیتوں اور سورتوں کی ترتیب زمانہ رسول کی ترتیب کے مطابق ہے۔

جب کہ دیگر محققین اور مورخین اس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ ”قرآن میں سورتوں کی ترتیب پیغمبر اکرم کی وفات کے بعد سب سے پہلے حضرت علی(ع)نے انجام دی اور اسکے بعد دوسرے صحابہ نے اس عمل کو انجام دیا۔

مصحف حضرت علی علیہ السلام

پیغمبر اسلام کے بعد سب سے پہلے جس نے قرآن کی جمع آوری کی وہ حضرت علی علیہ السلام تھے ۔محمد بن سیرین نے عکرمہ سے روایت کی ہے کہ خلافت ابو بکر کے شروع ہی میں علی (ع) خانہ نشین ہوگئے اور قرآن کو جمع کرنے کا عمل انجام دیا۔ محمد بن سیرین کہتا ہے کہ میں نے عکرمہ سے پوچھا :کیا علی (ع) کے مصحف کی نظم ونسق و ترتیب دوسرے مصاحف کی طرح تھی؟کیا اس میں ترتیب نزول کی رعایت کی گئی تھی؟ عکرمہ نے کہا :” تمام جن و انس مل کر اگر علی (ع) کے قرآن جیسا جمع کرنا چاہیں تب بھی نہیں کر سکتے۔(۱)

مصحف علی علیہ السلام کی خصوصیات

امیر المومنین علیہ السلام نے جو قرآن جمع کیا تھا اس کی خصوصیات یہ تھیں:

۱۔ آیات و سورتوں کو نزول کے اعتبار سے جمع کیا گیا تھا یعنی مکی آیات و سورتوں کو مدنی آیات و سوروں سے پہلے لکھا گیا تھا اور ساتھ ساتھ اسباب نزول و شان نزول بھی ذکر کیا گیا تھااور ناسخ و منسوخ کے مسائل بھی حل کئے گئے تھے۔

۲۔ آیات کو پیغمبر اکرم کی قرات کے مطابق لکھا گیا تھا لہٰذا وہ قرات کے اختلاف سے خالی تھا۔

۳۔ آیات کے نزول کی تمام مناسبتیںحاشیہ پر تحریر کی گئی تھیں ۔یہ حاشیہ قرآن کے معنی سمجھنے کے لئے بہترینمعاون تھا۔بہت سے ابہامات اس کے ذریعہ دور کئے جا سکتے تھے،بہت سے مشکلات کا حل اس میں موجود تھا۔خود امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں:”میں مسلمانوں کے لئے ایسی کتاب لایا تھاجس میں تنزیل اور تاویل دونوں موجود تھیں“((۱

مصحف حضرت علی علیہ السلام کا انجام

سُلیم ابن قیس ھلالی(جو حضرت علی (ع) کے خاص صحابیوں میں سے تھے)سلمان فارسی سے روایت کرتے ہیں کہ”جب لوگوں نے علی (ع) سے منھ موڑ لیا تو آپ (ع) نے خانہ نشینی اختیار کرلی اور پورا قرآن جمع کئے بغیر اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے۔قرآن جمع کرنے کے بعد آپ(ع) اسے ایک اونٹ پر رکھ کر مسجد لائے اس وقت لوگ ابو بکر کے گرد جمع تھے۔آپ نے ان سے فرمایا:

”میں پیغمبر کی وفات کے بعد سے اب تک قرآن کی جمع آوری میں مصروف تھا،جو بھی پیغمبر پر نازل ہو ا اور آنحضرت نے جو تفسیر و تاویل بیان کی وہ سب کچھ اس میں موجود ہے،ناگاہ ان میں سے ایک کھڑا ہوا اور آپ سے مخاطب ہو کر کہا: اے علی (ع) جو تم لائے ہوہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے،جو ہمارے پاس ہے وہ کافی ہے۔حضرت علی (ع) نے فرمایا:اس کے بعد تم اس قرآن کو کبھی نہیں دیکھ پاﺅ گے۔پھر آپ (ع) اپنے گھر چلے گئے اور اس کے بعد کسی نے مصحف علی (ع)کو نہیں دیکھا“۔(۲)

مصاحف صحابہ

پیغمبر اکرم کی رحلت اور حضرت علی (ع)کے مصحف کے بعد بہت سے صحابہ نے قرآن کی جمع آوری کی جیسے زید بن ثابت،عبداللہ بن مسعود،اُبی ابن کعب، مقدادابن اسود،سالم مولی ابی حذیفہ، معاذابن جبل اور ابو موسی اشعری۔

کہاجاتا ہے کہ حضرت علی ؑ کے بعد سب سے پہلے سالم مولی ابی حذیفہ نے قرآن کی سورتوں کو مرتب کیاجب وہ اور ان کے ساتھی قرآن جمع کر چکے توپھراس کی نام گزاری میں اختلاف ہوا ،بعض نے کہا اس کا نام’ ’سفر“ہو لیکن سالم اور دوسرے افراد نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ یہودیوں کی کتابوں کو’ ’سفر“کہا جاتا تھا ،پھر سالم نے ’مصحف‘نام کی تجویز پیش کی جس کو مان لیا گیا اس وقت سے قرآن کا نام ”مصحف“پڑگیا۔

نتیجہ

قرآن مجید کی آیتوں کی ترتیب اور اسی طرح ہر سورے میں آیتوں کی تعداد پیغمبراکرمکے حکم سے ہے البتہ قرآن کے سوروں کی ترتیب کے بارے میں اختلاف ہے۔

پیغمبر (ص)کی وفات کے بعد سب سے پہلے حضرت علی(ع) نے قرآن جمع کیا اور اس قرآن کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ تنزیل اور تاویل دونوں کے اعتبار سے کامل تھا۔

حضرت علی(ع) کی جمع آوری کے بعد دیگر صحابہ نے بھی اس عمل کو انجام دیااس کانام مصحف رکھا گیا۔